Wednesday, 9 March 2022

جل پری ہے تو وہ تسخیر بھی ہو سکتی ہے

 جل پری ہے تو وہ تسخیر بھی ہو سکتی ہے

خواب ہوتا ہے تو تعبیر بھی ہو سکتی ہے

زندگی کو ذرا شطرنج سمجھ کر دیکھو

میرے جھک جانے میں تدبیر بھی ہو سکتی ہے

مسئلے مجھ کو مٹانے ہی کا سامان نہیں

مسئلوں سے مِری تعمیر بھی ہو سکتی ہے

یار! معلوم ہوا ہے کہ خلا خالی نہیں

رات آئینے میں تصویر بھی ہو سکتی ہے

زندگی فلم نہیں جس کا ہو انجام حسیں

صورت حال یہ گمبھیر بھی ہو سکتی ہے

اس سے بہتر ہے کہ ہم سامنے لائیں الفت

کچھ نہیں ہونے کی تشہیر بھی ہو سکتی ہے

ذمہ داری بھی دفاتر میں ترقی سے بڑھے

آپ کی ٹائی تو زنجیر بھی ہو سکتی ہے

سارے جالے ہیں وجوہات کے جالے لیکن

یہ جو مکڑی ہے یہ تقدیر بھی ہو سکتی ہے

وقت کے ساتھ نکھر جاتا ہے تخلیق کا فن

شام ذیشان شب میر بھی ہو سکتی ہے


ذیشان ساجد

No comments:

Post a Comment