Wednesday, 9 March 2022

کٹیا جو اک فقیر کی کم تر دکھائی دے

 کٹیا جو اک فقیر کی کم تر دکھائی دے

دیکھو تو قصرِ شاہی سے بڑھ کر دکھائی دے

اس بدنصیب سا بھی کوئی بد نصیب ہے

جس کو زمینِ عشق بھی بنجر دکھائی دے

جس کی تلاش ہو وہ دِکھائی نہ دے کہیں

جس کو نہ دیکھنا ہو وہ اکثر دکھائی دے

ممکن ہے ایک روز وہ آئے مِرے بھی گھر

ممکن ہے ایک روز یہ گھر، گھر دکھائی دے

اتنی سکت نہیں ہے کہ اندر ہی جھانک لوں

روزن سے جھانکتا ہوں کہ باہر دکھائی دے

لگتا ہے یہ بھی میر کی غزلوں کا ہے اثر

مجھ کو جو چاند میں پری پیکر دکھائی دے

یارو! جمالِ یار بھی آنکھوں سے دیکھنا

آنکھوں بغیر دیکھو کہ بہتر دکھائی دے


امتیاز انجم

No comments:

Post a Comment