تمہیں تو جیسے ہی موقع ملا، فرار ہوئے
معافی مانگی ہے تم نے نہ شرمسار ہوئے
وگرنہ کون ہمیں حاضرین میں گِنتا
کسی کے ہاتھ لگانے سے ہم شمار ہوئے
صدا لگائی گئی بارہا مُکرّر کی
بہت سے لوگ مگر پھر بھی ایک بار ہوئے
گناہ کرتے ہیں کچھ لوگ، باقی دیکھتے ہیں
تو اس حساب سے سارے گناہگار ہوئے
اگرچہ پچھلے سفر کی تھکان باقی تھی
تجھے سواری میں دیکھا تو پھر سوار ہوئے
امن شہزادی
No comments:
Post a Comment