Thursday, 17 December 2020

اک درد سے جو رات ملاقات ہو گئی

اک درد سے جو رات ملاقات ہو گئی

پل بھر میں سوگوار مری ذات ہو گئی

کچھ شعر کچھ شعور نے رسوا کیا ہمیں

دلچسپ کتنی صورت حالات ہو گئی

تارہ گرا ہو ٹوٹ کے اک آسمان سے

تیرے بغیر اپنی یہ اوقات ہو گئی

ہر جرم کی سزا ہی یہیں ہم کو مل گئی

یہ زندگی تو گویا مکافات ہو گئی

غیبت، گناہ، جھوٹ، ہوس، سب کا تذکرہ

اب شاعری بھی جیسے خرافات ہو گئی

تھاما جو اس نے ہاتھ تو اک لمحہ یوں لگا

مٹھی میں بند آ کے کائنات ہو  گئی


عنبرین خان

No comments:

Post a Comment