اک درد سے جو رات ملاقات ہو گئی
پل بھر میں سوگوار مری ذات ہو گئی
کچھ شعر کچھ شعور نے رسوا کیا ہمیں
دلچسپ کتنی صورت حالات ہو گئی
تارہ گرا ہو ٹوٹ کے اک آسمان سے
تیرے بغیر اپنی یہ اوقات ہو گئی
ہر جرم کی سزا ہی یہیں ہم کو مل گئی
یہ زندگی تو گویا مکافات ہو گئی
غیبت، گناہ، جھوٹ، ہوس، سب کا تذکرہ
اب شاعری بھی جیسے خرافات ہو گئی
تھاما جو اس نے ہاتھ تو اک لمحہ یوں لگا
مٹھی میں بند آ کے کائنات ہو گئی
عنبرین خان
No comments:
Post a Comment