Thursday, 17 December 2020

اپنی عزت کا مناجات کا ڈر کا قصہ

 اپنی عزت کا، مناجات کا، ڈر کا قصہ

بیچ چوپال سناتے نہیں گھر کا قصہ

کچھ پرندے ہیں مرے یار جو اکثر آ کر

مجھے رو رو کے سناتے ہیں شجر کا قصہ

میں سمندر میں بہت دور نکل آیا ہوں

اب تجھے کون سنائے گا بھنور کا قصہ

اس لیے ایک محبت کی ضرورت ہے مجھے

پیش آئے تو لکھوں زیر و زبر کا قصہ

آزمائش کی گھڑی مجھ پہ بھی آسکتی ہے

مجھ سے پوچھا بھی تو جا سکتا ہے گھر کا قصہ

اک تعلق کو نبھانے کے لیے چلتا رہا

آبلے لکھتے رہے میرے سفر کا قصہ

مختصر بات یہی ہے، وہ مجھے چھوڑ گیا

اس سے آگے ہے اگر اور مگر کا قصہ


تیمور ذوالفقار

No comments:

Post a Comment