مت سمجھنا کہ صداؤں کے لیے چھوڑی ہے
ادھ کھلی کھڑکی ہواؤں کے لیے چھوڑی ہے
کل سے گر نیک نہ ہو جائیں تو کہنا واعظ
آج کی رات خطاؤں کے لیے چھوڑی ہے
ہم دوا دارو کے قائل تھے سو دن بھر دارو
اور پھر شام دواؤں کے لیے چھوڑی ہے
ہم نے جی جان سےکوشش کی تجھے پانے کی
جو کسر ہے وہ، دعاؤں کے لیے چھوڑی ہے
جسم کو ہم نے ترے عشق کا پنجرہ کر کے
روح تو اس میں سزاؤں کے لیے چھوڑی ہے
وجیہہ ثانی
No comments:
Post a Comment