Thursday, 17 December 2020

مت سمجھنا کہ صداؤں کے لیے چھوڑی ہے

 مت سمجھنا کہ صداؤں کے لیے چھوڑی ہے

ادھ کھلی کھڑکی ہواؤں کے لیے چھوڑی ہے

کل سے گر نیک نہ ہو جائیں تو کہنا واعظ

آج کی رات خطاؤں کے لیے چھوڑی ہے

ہم دوا دارو کے قائل تھے سو دن بھر دارو

اور پھر شام دواؤں کے لیے چھوڑی ہے

ہم نے جی جان سےکوشش کی تجھے پانے کی

جو کسر ہے وہ، دعاؤں کے لیے چھوڑی ہے

جسم کو ہم نے ترے عشق کا پنجرہ کر کے

روح تو اس میں سزاؤں کے لیے چھوڑی ہے


وجیہہ ثانی

No comments:

Post a Comment