Thursday, 17 December 2020

درکار صرف خواب ہی ہوتے ہیں اور ہیں

 درکار صرف خواب ہی ہوتے ہیں، اور ہیں

دیوار و در خراب ہی ہوتے ہیں، اور ہیں

ہم سے کہ جن سے ساری کہانی ہے ماورا

ما بینِ انتساب ہی ہوتے ہیں، اور ہیں

دریا پرست لوگ فسانوں کی تاک میں

لہروں کا پیچ و تاب ہی ہوتے ہیں، اور ہیں

مجھ خلوتی کو رونقِ بازار کر دیا

احباب بھی عذاب ہی ہوتے ہیں، اور ہیں

پہلے پہل تو عمر رچاتی ہے کتنے رنگ

آخر میں چند خواب ہی ہوتے ہیں، اور ہیں

کِھلتی ہے جن کی لَو سے افق در افق حیات

گردِ تہہِ نصاب ہی ہوتے ہیں، اور ہیں

یہ لفظ لفظ خواب یہ آزار سانس سانس

اسبابِ احتساب ہی ہوتے ہیں، اور ہیں

یہ بے دلی کی لہر میں آئے ہوئے گمان

آثارِ اجتناب ہی ہوتے ہیں، اور ہیں


خمار میرزادہ

No comments:

Post a Comment