یہ مجھ کو کیسا بنا دیا اے بنانے والے
کہ میل کھاتے نہیں ہیں مجھ سے زمانے والے
میں اپنے گاؤں کے سارے لوگوں کو جانتا ہوں
یہ لوگ ہر گز نہیں مرے کام آنے والے
ہماری ویسے بھی آنکھ کم ہی لگی ہے اور پھر
جو خواب آئے تو وہ بھی آئے ڈرانے والے
تُو یار ہے چل تجھے دکھاتا ہوں داغِ دل کے
وگرنہ ہوتے تو ہیں نہیں یہ دکھانے والے
خدا کا ہی نام لے رہا تھا میں ڈوبتے وقت
خدا نے ہی بھیجے ہونگے مجھ کو بچانے والے
سکون سا مل رہا ہے میرے اداس دل کو
غزل یہ اک بار پھر سنا دے سنانے والے
جاوید مہدی
No comments:
Post a Comment