Thursday, 17 December 2020

وحشتوں کا آج پھر چرچا رہا

 وحشتوں کا آج پھر چرچا رہا

آج پھر یہ دل میرا ٹھہرا رہا

وادیوں میں زندگی مرتی رہی

درد آنکھوں سے میری بہتا رہا

زندگی اپنا سفر کرتی رہی

ہر نفس ایک خوف سا برپا رہا

گل و بلبل کھو گئے اس دھندھ میں

کرب سے آلود ہر چہرہ رہا

مسئلے شمع بجھا کر تھک گئے

شوق کا سورج مگر جلتا رہا

پتھروں کے وار وہ سہتے گئے

آئینوں کے ساتھ یہ قصّہ رہا

زخم دے کر تھک گی یہ زندگی

خواب آنکھوں میں مگر پلتا رہا


گوہر سیما

No comments:

Post a Comment