وحشتوں کا آج پھر چرچا رہا
آج پھر یہ دل میرا ٹھہرا رہا
وادیوں میں زندگی مرتی رہی
درد آنکھوں سے میری بہتا رہا
زندگی اپنا سفر کرتی رہی
ہر نفس ایک خوف سا برپا رہا
گل و بلبل کھو گئے اس دھندھ میں
کرب سے آلود ہر چہرہ رہا
مسئلے شمع بجھا کر تھک گئے
شوق کا سورج مگر جلتا رہا
پتھروں کے وار وہ سہتے گئے
آئینوں کے ساتھ یہ قصّہ رہا
زخم دے کر تھک گی یہ زندگی
خواب آنکھوں میں مگر پلتا رہا
گوہر سیما
No comments:
Post a Comment