یہ عشق ہے تو یہاں حاضری ضروری ہے
کبھی کبھی تری موجودگی ضروری ہے
کوئی بھی خاص سبب تو نہیں لگاؤ کا
وہ ایک شخص مجھے قدرتی ضروری ہے
محبتوں کے عوض جب اذیتیں ملیں تو
پتا چلا کہ یہاں بے حسی ضروری ہے
تُو کہہ رہا ہے مرے بعد خوش رہا کرنا
ترے بغیر بھلا زندگی ضروری ہے؟
کہیں سے کاش کوئی خیر کی خبر آئے
بہت گھٹن میں ذرا تازگی ضروری ہے
امن شہزادی
No comments:
Post a Comment