تری گلی کی طرف لے کے جا رہا ہے مجھے
وہ زندگی کی طرف لے کے جا رہا ہے مجھے
دل و دماغ کا آپس میں وہ تصادم ہے💓
جو خودکشی کی طرف لے کے جا رہا ہے مجھے
میں چاہتا ہوں خدا کی طرف ہی جاؤں، مگر
خدا کسی کی طرف لے کے جا رہا ہے مجھے
میں اپنے حال سے پہلے ہی تنگ ہوں، اس پر
تُو شاعری کی طرف لے کے جا رہا ہے مجھے
وہ رائیگاں ہوں کہ خود پوچھتا ہوں رستے سے
بتا، کسی کی طرف لے کے جا رہا ہے مجھے
اسے بتانا کہ میں غم کے ساتھ ہی خوش ہوں
اگر خوشی کی طرف لے کے جا رہا ہے مجھے
عجب طلسم ہے شہزاد وہ پری چہرہ
سخنوری کی طرف لے کے جا رہا ہے مجھے
شہزاد مہدی
No comments:
Post a Comment