Friday, 18 December 2020

اچھا ہوا کہ عشق میں برباد ہو گئے

 اچھا ہوا کہ عشق میں برباد ہو گئے

مجبوریوں کی قید سے آزاد ہو گئے

کب تک فریب کھاتے رہیں قید میں رہیں

یہ سوچ کر اسیر سے صیاد ہو گئے

اس کیفیت کا نام ہے کیا سوچتے ہیں ہم

اور دوستوں کی ضد ہے کہ فرہاد ہو گئے

ملنے کا من نہیں تو بہانا نیا تراش

اب تو مکالمے بھی ترے یاد ہو گئے

بے زار، بد مزاج، انا دار، بد لحاظ

ایسے نہیں تھے جیسے تیرے بعد ہو گئے

ثانی فقط تمہارا لکھا جن خطوط پر

وہ تو کبھی کے زائد المعیاد ہو گئے


وجیہہ ثانی

No comments:

Post a Comment