Monday, 2 March 2026

میں نے پایا ہے کیا مدینے سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


میں نے پایا ہے کیا مدینے سے

ہو کے تو بھی تو آ مدینے سے

میری جھولی میں آج جو بھی ہے

مجھ کو سب کچھ ملا مدینے سے

حاضری کی نوید لائی ہے

جب بھی پلٹی دعا مدینے سے

کھل اٹھے میری زندگی میں گلاب

جب بھی آئی ہوا مدینے سے

کتنا نزدیک کر دیا رب نے

عرش تک راستا مدینے سے

اپنے دامن کو بھر لیا ہو گا

صبح دم اےصبا مدینے سے

تیرگی اب بھی دور کرتے ہیں

وہ نبی مصطفیٰؐ مدینے سے


محمد رضا نقشبندی

No comments:

Post a Comment