عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میں نے پایا ہے کیا مدینے سے
ہو کے تو بھی تو آ مدینے سے
میری جھولی میں آج جو بھی ہے
مجھ کو سب کچھ ملا مدینے سے
حاضری کی نوید لائی ہے
جب بھی پلٹی دعا مدینے سے
کھل اٹھے میری زندگی میں گلاب
جب بھی آئی ہوا مدینے سے
کتنا نزدیک کر دیا رب نے
عرش تک راستا مدینے سے
اپنے دامن کو بھر لیا ہو گا
صبح دم اےصبا مدینے سے
تیرگی اب بھی دور کرتے ہیں
وہ نبی مصطفیٰؐ مدینے سے
محمد رضا نقشبندی
No comments:
Post a Comment