اس طرح بھی مِری وحشت نے ریاضت کی ہے
ایک پیارے سے تصور کی حفاظت کی ہے
یوں خدا تیرے میرے درمیاں موجود رہا
کی محبت تو لگا جیسے عبادت کی ہے
میں تہی دست بھلا تجھ کو کیا دے سکتا تھا
ہاں مگر میں نے دعاؤں میں سخاوت کی ہے
یہ چھپے رہتے تو آگے نہیں بڑھ سکتے تھے
دردِ دل کی مِرے اشکوں نے سیادت کی ہے
کوئی پُر درد سا افسانہ چھلک جاتا ہے
آپ کی آنکھوں سے لگتا ہے محبت کی ہے
یاسر فاروق
No comments:
Post a Comment