عشق سے جام سے برسات سے ڈر لگتا ہے
یار تم کیا ہو کہ ہر بات سے ڈر لگتا ہے
عشق ہے عشق کوئی کھیل نہیں بچوں کا
وہ چلا جائے جسے مات سے ڈر لگتا ہے
میں ترے حسن کا شیدائی نہیں ہو سکتا
روز بٹتی ہوئی خیرات سے ڈر لگتا ہے
ہم نے حالات بدلنے کی دعا مانگی تھی
اب بدلتے ہوئے حالات سے ڈر لگتا ہے
دل تو کرتا ہے کہ بارش میں نہائیں یاسر
گھر جو کچا ہو تو برسات سے ڈر لگتا ہے
یاسر انعام
No comments:
Post a Comment