Monday, 2 March 2026

گھر جو کچا ہو تو برسات سے ڈر لگتا ہے

 عشق سے جام سے برسات سے ڈر لگتا ہے

یار تم کیا ہو کہ ہر بات سے ڈر لگتا ہے

عشق ہے عشق کوئی کھیل نہیں بچوں کا

وہ چلا جائے جسے مات سے ڈر لگتا ہے

میں ترے حسن کا شیدائی نہیں ہو سکتا

روز بٹتی ہوئی خیرات سے ڈر لگتا ہے

ہم نے حالات بدلنے کی دعا مانگی تھی

اب بدلتے ہوئے حالات سے ڈر لگتا ہے

دل تو کرتا ہے کہ بارش میں نہائیں یاسر

گھر جو کچا ہو تو برسات سے ڈر لگتا ہے


یاسر انعام

No comments:

Post a Comment