Saturday, 7 March 2026

فضائے آدمیت کو سنورنے ہی نہیں دیتے

 فضائے آدمیت کو سنورنے ہی نہیں دیتے 

سیاستداں دلوں کے زخم بھرنے ہی نہیں دیتے 

زمانہ وہ بھی تھا جب حادثے کا ڈر ستاتا تھا 

مگر اب حادثے لوگوں کو ڈرنے ہی نہیں دیتے 

کچھ ہم نے خواب ایسے پال رکھے ہیں کہ جو ہم کو 

حقیقت کی زمیں پر پاؤں رکھنے ہی نہیں دیتے 

یہ مانا عشق سے بنتی ہے جنت زندگی لیکن 

مسائل زندگی سے عشق کرنے ہی نہیں دیتے 

گزر گاہوں کے آگے منزلیں آواز دیتی ہیں 

مگر ٹھہرے ہوئے لمحے گزرنے ہی نہیں دیتے 

بشرؔ بے رحم ہیں یہ پربتوں جیسے اصول اپنے 

کسی کے دل کی وادی میں اترنے ہی نہیں دیتے 


چرن سنگھ بشر

No comments:

Post a Comment