Saturday, 7 March 2026

ہے قصہ مختصر میرے سفر کا

 ہے قصہ مختصر میرے سفر کا

نہ پانی ہے نہ سایہ ہے شجر کا

نہیں ہے جس پہ تیرا نقش پا تک

بھروسہ کیا ہے ایسی زندگی کا

چلا ہوں جانب منزل میں لیکن

نہیں نام و نشاں تک رہگزر کا

خیال یار میں گم ہو گیا ہوں

پتہ میں کس سے پوچھوں اپنے گھر کا

نہیں صہبا کی عظمت سے میں منکر

یہ نشہ ہے مگر ہے رات بھر کا

زمانے بھر میں رسوا ہو گیا ہوں

کرشمہ ہے یہ بس تیری نظر کا

پریمی جب بھی جلوہ گر وہ ہوگا

بدل جائے گا منظر بام و در کا


پریمی رومانی

No comments:

Post a Comment