کوئی سیلاب ہی آنکھوں کا مقدر کر دے
اب مِرے سینے کے صحرا کو سمندر کر دے
پھر عطا کر اسے مہکے ہوئے زخموں کے گلاب
پھر یہ شاخِ دلِ افسردہ معطر کر دے
کب تلک دیکھیں گی بے جان مناظر آنکھیں
زندگی بخش انہیں یا انہیں پتھر کر دے
وہ اندھیرا ہے کہ گم ہیں در و دیوار مِرے
کوئی جگنو اس گھر کو منور کر دے
لذتِ زخم جو دی ہے تو یہ احسان بھی کر
دولتِ درد سے اس دل کو تونگر کر دے
مِرا ظاہر ہی مِری اصل کی پہچان بنے
مِرا باطن مِرے چہرے پہ اجاگر کر دے
اپنے سینے میں زمانے کا اندھیرا بھر لوں
حوصلہ دے مجھے، خورشید کا پیکر کر دے
اپنی پلکوں سے اجالوں کے صحیفے لکھوں
تُو مجھے شہرِ شبِ غم کا پیمبر کر دے
میرے زخموں کا صحیفہ، مِرا دیوانِ غزل
لبِ رحمت سے اسے چھو کے مصور کر دے
پیر اکرم
No comments:
Post a Comment