Friday, 6 March 2026

میں کبھی تقدیر سے باتیں کروں

 میں کبھی تقدیر سے باتیں کروں

یا کبھی تدبیر سے باتیں کروں

خاک لے کر کوچۂ دلبر کی میں

دل کہے اکسیر سے باتیں کروں

وہ جو ہے زنجیر میں جکڑا ہوا

اس کی میں زنجیر سے باتیں کروں

لفظ کی پہچان کھو بیٹھی ہوں میں

اپنی ہی تحریر سے باتیں کروں


مہرالنساء مہرو

No comments:

Post a Comment