Monday, 9 March 2026

ہم یہ چاہیں ہمیں انکار کی جرأت ہو جائے

 ہم یہ چاہیں ہمیں انکار کی جرأت ہو جائے

لب تک آئے تو وہی حرف ندامت ہو جائے

میری سوچیں، مِرا احساس، مِری ہی آواز

میرے شعروں سے مگر آپ کی شہرت ہو جائے

خاک ہو کر وہ ہواؤں میں بکھرنا چاہے

جب کسی کو در و دیوار سے وحشت ہو جائے

ایسی دنیا میں بڑی بات ہے زندہ رہنا

یوں تو ویرانے میں رہنا بھی عبادت ہو جائے

زندگی حسن ہے اور حسن کشش رکھتا ہے

ورنہ ہر شخص کو جاں دینے کی فرصت ہو جائے

اختلافات بھی ہوں صلح بھی ہو جائے اگر

رنجشوں میں ہمیں احساس مروت ہو جائے


وضاحت نسیم

No comments:

Post a Comment