Monday, 9 March 2026

افسوس تری یاد نے رستہ نہیں بدلا

 افسوس تِری یاد نے رستہ نہیں بدلا

ورنہ تو مِرے گاؤں میں کیا کیا نہیں بدلا

جو موم کا پُتلا تھا وہ پگھلا نہیں اب تک

جو آگ کا دریا تھا وہ دریا نہیں بدلا

موسم کی طرح روز بدلنا نہیں آتا

بچپن سے اسی واسطے چہرہ نہیں بدلا

اب تک وہ مِرے خون کا پیاسا ہے مِرا یار

اب تک مِرے دشمن کا وہ لہجہ نہیں بدلا

منزل سے بچھڑ جائیں گے منظر سے نکل کر

سو ہم نے یہی سوچ کے رستہ نہیں بدلا

جیسے تو بدلنے کا مجھے سوچ رہا تھا

اب تک تو مِری جان میں ویسا نہیں بدلا


وقاص یوسف

No comments:

Post a Comment