اچھے ہیں یہ اشعار انہیں غور سے دیکھیں
پھولوں میں چھپے خار انہیں غور سے دیکھیں
پھیلاتے ہیں نفرت جو ہر اک فرد بشر میں
اپنوں میں چھپے یار، انہیں غور سے دیکھیں
مذہب کو لیے پھرتے ہیں پگڑی میں جو اپنی
باطل کے ہیں کردار، انہیں غور سے دیکھیں
چہرہ پہ سجائے ہوئے جمہور کا لیبل
ملت کو کریں خوار، انہیں غور سے دیکھیں
وہ چور' اچکے وہ سیاست کے وڈیرے
ہیں کتنے وہ عیار، انہیں غور سے دیکھیں
بیچیں ہیں خودی کو وہ زمانے کو زمیں کو
ہر سمت ہے بیوپار، انہیں غور سے دیکھیں
آہوں میں اثر ہے، نہ مؤذن کی اذاں میں
سوکھے ہیں سب اشجار، انہیں غور سے دیکھیں
نہ ہاتھ ملائیں، نہ ملیں ان سے گلے ہم
بس دور سے دیدار، انہیں غور سے دیکھیں
کچھ لوگ ہیں مخلص، شاہد ہیں وہ اس کے
کرتے ہیں خبردار، انہیں غور سے دیکھیں
ہارون شاہد
No comments:
Post a Comment