Wednesday, 4 March 2026

اچھے ہیں یہ اشعار انہیں غور سے دیکھیں

 اچھے ہیں یہ اشعار انہیں غور سے دیکھیں

پھولوں میں چھپے خار انہیں غور سے دیکھیں

پھیلاتے ہیں نفرت جو ہر اک فرد بشر میں

اپنوں میں چھپے یار، انہیں غور سے دیکھیں

مذہب کو لیے پھرتے ہیں پگڑی میں جو اپنی

باطل کے ہیں کردار، انہیں غور سے دیکھیں

چہرہ پہ سجائے ہوئے جمہور کا لیبل

ملت کو کریں خوار، انہیں غور سے دیکھیں

وہ چور' اچکے وہ سیاست کے وڈیرے

ہیں کتنے وہ عیار، انہیں غور سے دیکھیں

بیچیں ہیں خودی کو وہ زمانے کو زمیں کو

ہر سمت ہے بیوپار، انہیں غور سے دیکھیں

آہوں میں اثر ہے، نہ مؤذن کی اذاں میں

سوکھے ہیں سب اشجار، انہیں غور سے دیکھیں

نہ ہاتھ ملائیں، نہ ملیں ان سے گلے ہم

بس دور سے دیدار، انہیں غور سے دیکھیں

کچھ لوگ ہیں مخلص، شاہد ہیں وہ اس کے

کرتے ہیں خبردار، انہیں غور سے دیکھیں


ہارون شاہد

No comments:

Post a Comment