رابطہ اک حسین ٹُوٹا ہے
پھُول تازہ ترین ٹوٹا ہے
دل تو کامن سی چیز ہے یارو
مجھ سے اس کا یقین ٹوٹا ہے
اتنے جُگنو کہاں سے آئے ہیں
کیا ستارا مہین ٹوٹا ہے؟
اب کے تو اشک بھی نہیں آئے
اب کے دل بہترین ٹوٹا ہے
ہنستی آنکھوں میں ٹُوٹے سپنے ہیں
ہے مکاں پر مکین ٹوٹا ہے
سبھاش پاٹھک ضیا
No comments:
Post a Comment