ہم تمہیں کچھ نہیں کہتے یہ بتا دیتے ہیں
دیکھتے ہیں تجھے جینے کی دعا دیتے ہیں
وقف یوں زندگی تِرے لیے ہم نے کر دی
‘‘جان بھی مانگی جو تو نے تو کہا ’’دیتے ہیں
یوں سجاتے ہیں تِرے واسطے محفل جاناں
یاد کرتے ہیں تجھے خود کو بھلا دیتے ہیں
اپنا مسلک ہے تِری یاد سنبھالے رکھنا
ہم ترے ہجر کو بھی وصل بنا دیتے ہیں
تُو جفا جو ہے تو منظور ہمیں یہ بھی ہے
سنگدل ہم تجھے بدلے میں وفا دیتے ہیں
تُو ہمیں جان سے پیارا ہے تِرا حکم عزیز
تِرے کہنے پہ یہ جیون بھی مٹا دیتے ہیں
میرے قدموں میں لپٹتے ہیں زمانے سارے
رُخ ہستی سے وہ جب پردہ ہٹا دیتے ہیں
تُو نے جو کچھ بھی کہا اس کو ہی تسلیم کیا
تِری ہر بات بڑی بات بنا دیتے ہیں
اپنی دنیا تو فقط کیفی ہے ان کی دنیا
اُن کے ہر حکم پہ ہم جان لٹا دیتے ہیں
کیفی فریدی
No comments:
Post a Comment