Monday, 2 March 2026

شاید تجھے سکون ملے دیکھ کر تو دیکھ

 شاید تجھے سکون ملے دیکھ کر تو دیکھ

ہم ختم ہو رہے ہیں ہمیں اک نظر تو دیکھ

منزل نظر میں ہے نہ کوئی ہمسفر ہے ساتھ

ناکام آرزو کا یہ ذوق سفر تو دیکھ

سینہ میں اضطراب لبوں پر ہنسی لیے

مر مر کے جی رہے ہیں ہمارا ہنر تو دیکھ

یہ کیا کہ چھوڑ دی یوں ہی تخلیق کر کے بس

کچھ اور چاہتی ہے یہ دنیا ادھر تو دیکھ

خود حسن بھی ہے عشق کی بربادی پر نثار

دیکھا نہیں ہے شمع کو بجھتے اگر تو دیکھ


وبھا جین خواب

No comments:

Post a Comment