فریب
چھین کر مجھ سے مِری جان مِرے دل کا قرار
تُو نے گُل کر ہی دئیے میری امیدوں کے چراغ
تُو نے کیوں گھول دیا زہر مِری رگ رگ میں
تُو نے کیوں توڑ دئیے میری محبت کے ایاغ
مجھ کو معلوم تھا قاتل ہے تُو ارمانوں کی
دل مجروح کے ارمانوں سے تُو کھیلے گی
دل نہیں ہے تِرے سینے میں کوئی پتھر ہے
دل سے اٹھتے ہوئے طوفانوں سے تُو کھیلے گی
تُو نے کیا خوب دیا مجھ کو محبت کا صلہ
عمر بھر میں نہیں بھولوں گا محبت تیری
اپنے اس چاہنے والے کو دیا تُو نے فریب
جس نے کی تھی سحر و شام عبادت تیری
رنج و غم مجھ کو عطا کر کے زمانے بھر کے
میری رنگین بہاروں کو اجاڑا تُو نے
بے وفائی تِری فطرت ہے ہوا اب معلوم
تیر فرقت کا مِرے سینے میں گاڑا تُو نے
پرواز نورپوری
No comments:
Post a Comment