Monday, 9 March 2026

کیوں ہزاروں بے ضرر افراد کے گھر جل گئے

 کیوں ہزاروں بے ضرر افراد کے گھر جل گئے

سوچنے بیٹھا تو میری سوچ کے پر جل گئے

آگ تو غصہ تھی انسانوں سے پھر یہ کیا ہوا

مرغیاں ڈربوں میں، کابک میں کبوتر جل گئے

مسکرا کر لُو کے نیزے جھیلتے ہیں ہم غریب

برف کی صحبت میں تم کمرے کے اندر جل گئے

کیا کہیں ان کو جو دنگے میں نہیں مارے گئے

اور سرکاری پنہ گاہوں میں آ کر جل گئے

بچ گیا پرویز اس کا حوصلہ قائم رہا

آگ کے دریا میں تم جیسے شناور جل گئے


پرویز مظفر

No comments:

Post a Comment