Tuesday, 8 December 2020

سلیقہ ہے مجھے تاروں سے لو لگانے کا

 سلیقہ ہے مجھے تاروں سے لو لگانے کا

کہ میں چراغ نہیں داغ کے گھرانے کا

وہ دیکھ برف کے پھولوں میں جاگتی ہے سحر

یہی ہے کیا ترا انداز مسکرانے کا

خلوص شرط ہے پی لوں گا زہر بھی اے دوست

تو پہلے سیکھ مجھے ڈھنگ آزمانے کا

لیا جو شاخ گل تر کو جھک کے بانہوں میں

وہ اک بہانہ تھا تجھ کو گلے لگانے کا

چلی جو یاد تمہاری الکھ جگاتی ہوئی

بھٹک گیا کوئی جوگی کسی ٹھکانے کا

اڑوں تو چوم لوں تجھ کو کہ ایک جگنو ہوں

تو خواب ہے کسی پربت کے شامیانے کا

مری لگن کا سفینہ نہ ڈوب جائے کہیں

ترا وجود بھنور ہے کسی بہانے کا

ترے کلام ترے جام تیرے نام سے پریم

چمک رہا ہے ستارہ ترے زمانے کا


پریم واربرٹنی

No comments:

Post a Comment