تمام خشک و تر گئے، مجھے یقین آ گیا
ہمارے خواب مر گئے، مجھے یقین آ گیا
بڑا فریب ہو گیا پڑھے لکھوں کے ساتھ بھی
پڑھے لکھے بھی ڈر گئے، مجھے یقین آ گیا
کسے کے دکھ عجیب منجمد ہوئے اتھاہ میں
کسی کے سکھ بکھر گئے، مجھے یقین آ گیا
حصار کی گرفت میں مچل رہے تھے لوگ، پھر
غبار میں اتر گئے، مجھے یقین آ گیا
ہمارے کرب کی کتھا پہ چاک مل گئے ہو تم
دعا پہ پاؤں دھر گئے، مجھے یقین آ گیا
تمام ، جو مجھے یقیں دلا رہے تھے صبح کا
مُکر گئے، مُکر گئے، مجھے یقین آ گیا
وہ آخری فریب تھا ، نئے تھے تم ، نئے تھے ہم
مگر وہ دن گزر گئے، مجھے یقین آ گیا
فرحت عباس شاہ
No comments:
Post a Comment