Tuesday, 8 December 2020

عکس دھندلا گئے

عکس مرجھا گئے


وہ چالیس راتوں سے سویا نہ تھا

وہ خوابوں کو اونٹوں پہ لادے ہوئے

رات کے ریگزاروں میں چلتا رہا

چاندنی کی چتاؤں میں جلتا رہا

میز پر

کانچ کے اک پیالے میں رکھے ہوئے

دانت ہنستے رہے

کالی عینک کے شیشوں کے پیچھے سے پھر

موتیے کی کلی سر اٹھانے لگی

آنکھ میں تیرگی مسکرانے لگی

روح کا ہاتھ

چھلنی ہوا سوئی کی نوک سے

خواہشوں کے دِیے

جسم میں بجھ گئے

سبز پانی کی سیال پرچھائیاں

لمحہ لمحہ بند میں اترنے لگیں

گھر کی چھت میں جڑے

دس ستاروں کے سایوں تلے

عکس دھندلا گئے

عکس مرجھا گئے


عادل منصوری 

No comments:

Post a Comment