Tuesday, 8 December 2020

الماری کا قبرستان

 الماری کا قبرستان


لکڑی کے تختوں پہ کتابیں

اس تربیت سے چنی ہوئی ہیں

یوں آپس میں جڑی ہوئی ہیں

جیسے قبرستان میں قبریں

جلدوں والی ساری کتابیں پکی قبریں

غیر مجلد کچی قبریں

کچھ تازہ، کچھ بہت پرانی

کچھ بےحد بوسیدہ شکستہ

یہ مرقد ہیں ان لوگوں کے

موت کے بعد بھی جو زندہ ہیں

ہر اک قبر پہ صاحب قبر کا نام لکھا ہے

ہر اک لوح پہ نام کے ساتھ دوام لکھا ہے

ایک بیاض ہے میری بھی اس الماری میں

جس میں میں نے اپنا سارا کلام لکھا ہے

پھر جب اک دن

میں بھی اپنے لکھے لفظوں کی

چادر اوڑھ کے سو جاﺅں گا

دفن کتاب میں ہو جاﺅں گا

مجھ کو یقیں ہے

میں بھی اپنی قبر میں صدیوں زندہ رہوں گا

میں نے بھی ایسے لفظ لکھے ہیں،مر نہ سکوں گا


نجم الاصغر

No comments:

Post a Comment