ہم چلے جائیں گے اور یہ راستے رہ جائیں گے
تیرے میرے درمیاں کچھ فاصلے رہ جائیں گے
ہم سے بے شک زندگی کی ساری خوشیاں چھین لو
پھر بھی تیری یادوں کے کچھ آسرے رہ جائیں گے
رہ گئے تھے کھو کے ہم سے راستوں میں جو کبھی
جنگلوں میں ڈھونڈتے وہ فاقلے رہ جائیں گے
توڑ لو ہم سے تعلق دیر ہے کس بات کی
ساتھ تیرے خواب میں تو رابطے رہ جائیں گے
چل دئیے ہو آپ بھی گر میری نیندیں لوٹ کر
آپ بھی راتوں کو اکثر جاگتے رہ جائیں گے
دشتِ تاریکی میں کھو جاؤں گا اک دن فضل میں
روشنی میں لوگ مجھ کو ڈھونڈتے رہ جائیں گے
فضل خان
No comments:
Post a Comment