Tuesday, 8 December 2020

ہم چلے جائیں گے اور یہ راستے رہ جائیں گے

 ہم چلے جائیں گے اور یہ راستے رہ جائیں گے

تیرے میرے درمیاں کچھ فاصلے رہ جائیں گے

ہم سے بے شک زندگی کی ساری خوشیاں چھین لو

پھر بھی تیری یادوں کے کچھ آسرے رہ جائیں گے

رہ گئے تھے کھو کے ہم سے راستوں میں جو کبھی

جنگلوں میں ڈھونڈتے وہ فاقلے رہ جائیں گے

توڑ لو ہم سے تعلق دیر ہے کس بات کی

ساتھ تیرے خواب میں تو رابطے رہ جائیں گے

چل دئیے ہو آپ بھی گر میری نیندیں لوٹ کر

آپ بھی راتوں کو اکثر جاگتے رہ جائیں گے

دشتِ تاریکی میں کھو جاؤں گا اک دن فضل میں

روشنی میں لوگ مجھ کو ڈھونڈتے رہ جائیں گے


فضل خان

No comments:

Post a Comment