Monday, 7 December 2020

اپنے ہاتھوں کی لکیریں نہ مٹا رہنے دے

 اپنے ہاتھوں کی لکیریں نہ مٹا، رہنے دے

جو لکھا ہے وہی قسمت میں لکھا رہنے دے

سچ اگر پوچھ تو زندہ ہوں انہیں کی خاطر

تشنگی مجھ کو سرابوں میں گِھرا رہنے دے

آہ، اے عشرتِ رفتہ! نکل آئے آنسو

میں نہ کہتا تھا کہ اتنا نہ ہنسا رہنے دے

اس کو دھندلا نہ سکے گا کبھی لمحوں کا غبار

میری ہستی کا ورق یوں ہی کھلا رہنے دے

شرط یہ ہے کہ رہے ساتھ وہ منزل منزل

ورنہ زحمت نہ کرے بادِ صبا، رہنے دے

یوں بھی احساسِ الم شب میں سِوا ہوتا ہے

اے شبِ ماہ! مری حد میں نہ آ، رہنے دے

زندگی میرے لیے درد کا صحرا ہے شمیم

میرے ماضی! مجھے اب یاد نہ آ، رہنے دے


مبارک شمیم

No comments:

Post a Comment