اکیلے ہم کبھی گھر سے نہیں نکلتے ہیں
ہمارے ساتھ نئے تجربے بھی چلتے ہیں
جو دیکھیے تو بڑی قربتیں نظر آئیں
جو سوچیے تو بہت فاصلے نکلتے ہیں
نہ خودکشی اسے کہیے، نہ زندگی کہیے
غموں کی دھوپ میں بیٹھے ہوئے پگھلتے ہیں
ہماری ذات کے اندر ہے ظلمتوں کا ہجوم
ہماری ذات کے باہر چراغ جلتے ہیں
عدم کے ہاتھ میں تعبیر جن کی ہوتی ہے
شمیم ایسے بھی آنکھوں میں خواب پلتے ہیں
مبارک شمیم
No comments:
Post a Comment