بقائے ذات کے اک دورِ لازوال میں ہوں
مجھے نہ چھیڑ کہ میں لمحۂ وصال میں ہوں
سبک روی کا تصور، نہ رنگِ سست روی
مثالِ موجِ رواں مست اپنے حال میں ہوں
ترا خیال مجھے جب سے چھو کے گزرا ہے
میں تب سے رقص کناں دھڑکنوں کی تال میں ہوں
مری شکست ہے طاہر عدیم فتح مری
میں ہنس رہا ہوں اگرچہ بہت ملال میں ہوں
طاہر عدیم
No comments:
Post a Comment