ان رواجوں کے تاریک زندان میں
ان رواجوں کے تاریک زندان میں
کتنی روحوں کو زنجیر ڈالی گئی
کتنے خوابوں کو مصلوب ہونا پڑا
کتنی آنکھوں کو خاموش رونا پڑا
کتنی کلیاں جلیں
کتنے غنچوں کو مٹی میں سونا پڑا
زندگی کی فصیلوں پہ جلتے دِیے
موت کے نیلے ہاتھوں بجھائے گئے
کج کلاہوں میں دیدہ وری نہ رہی
آئینہ سازئ شیشہ گری نہ رہی
خشک ہونٹوں پہ حرفِ دعا نہ ملا
ہر کسی کو فلک پہ خدا نہ ملا
ان رواجوں کے تاریک زندان میں سانس گھٹتی رہی
اور طلسمات کے شہرِ افتاد میں
کم نگاہی نے افکار چھلنی کئے
ہر بصیرت، بصارت کی ٹھوکر پہ ہے
میرے گھر کے گنہ گار آنگن میں اب
جانے کیوں زیست ہے ماند، ناراض ہے
چاندنی دم بخود، چاند ناراض ہے
وقت کے پانیوں میں بہاتی رہی
میں دعاؤں کے روشن سنہرے دِیے
پھر بھی شہرِ نگاراں سے ساون خفا
پھر بھی سورج ہے دھرتی سے روٹھا ہوا
زیست جھُوٹے بہانوں پہ ناراض ہے
یا ہے تیرہ شبی کی دعا بے اثر
یا خدا آسمانوں پہ ناراض ہے
شاہین کاظمی
No comments:
Post a Comment