سانسیں کہتی ہیں اب خدارا بس
اور کتنا سہوں خسارا، بس
تم کو پھر جگ سے چھین لیتے ہم
کاش چلتا اگر ہمارا بس
سب ہی ہمدرد ہیں جدھر دیکھوں
کوئی بنتا نہیں سہارا بس
اب ذرا سی بچی ہوں میں خود میں
باقی مجھ میں ہے تُو ہی سارا بس
مانا دنیا حسین ہے، لیکن
مجھ کو لگتا ہے تو ہی پیارا بس
میرے خدشات سب غلط کر دو
مجھ سے کہہ دو کہ ہوں تمہارا بس
چاہے سب چھوڑ کر چلے جائیں
تم نہ کرنا کبھی کنارا بس
سچ کہوں تب سے نام ہے میرا
جب سے تُو نے مجھے پکارا بس
عالیہ شاہ
No comments:
Post a Comment