Sunday, 6 December 2020

مسلسل امتحاں سے تھک چکا ہوں

 مسلسل امتحاں سے تھک چکا ہوں

میں اب عمرِ رواں سے تھک چکا ہوں

مجھے اب خاکِ مرقد میں چھپا دو

کہ جسمِ ناتواں سے تھک چکا ہوں

کوئی تو آ بسے دل میں مرے بھی

اب اس خالی مکاں سے تھک چکا ہوں

اب اپنی ذات بھی ہے بوجھ مجھ پر

میں اس کوہِ گراں سے تھک چکا ہوں

مرا رستہ تو طارق کٹ گیا، پر

تمہاری داستاں سے تھک چکا ہوں


اقبال طارق

No comments:

Post a Comment