Sunday, 6 December 2020

ایک کھڑکی کھلی دسمبر میں

 ایک کھڑکی کھلی دسمبر میں

اور ملی زندگی دسمبر میں

شال رکھ دی سنبھال کر تیری

یاد اوڑھی تری دسمبر میں

دیکھ پھر شام سرد ہونے لگی

پھر کمی ہے تری دسمبر میں

ایک آنچل کی دھوپ سینکیں گے

ہم چلیں گے مری دسمبر میں

تو جو آئے تو رُت پلٹ آئے

آئے اپریل بھی دسمبر میں

تیز سانسیں تھیں سرد موسم میں

شب پگھلتی رہی دسمبر میں

دل جسے آج تک نہیں بُھولا

وہ غزل ہو گئی دسمبر میں

جس کی تھی جون میں تلاش مجھے

وہ برستی رہی دسمبر میں


سہیل رائے

No comments:

Post a Comment