ایک کھڑکی کھلی دسمبر میں
اور ملی زندگی دسمبر میں
شال رکھ دی سنبھال کر تیری
یاد اوڑھی تری دسمبر میں
دیکھ پھر شام سرد ہونے لگی
پھر کمی ہے تری دسمبر میں
ایک آنچل کی دھوپ سینکیں گے
ہم چلیں گے مری دسمبر میں
تو جو آئے تو رُت پلٹ آئے
آئے اپریل بھی دسمبر میں
تیز سانسیں تھیں سرد موسم میں
شب پگھلتی رہی دسمبر میں
دل جسے آج تک نہیں بُھولا
وہ غزل ہو گئی دسمبر میں
جس کی تھی جون میں تلاش مجھے
وہ برستی رہی دسمبر میں
سہیل رائے
No comments:
Post a Comment