Sunday, 6 December 2020

کسی پہ وقت یہ ہرگز نہ آئے بارش میں

 کسی پہ وقت یہ ہرگز نہ آئے بارش میں

کہ آنکھ تر ہو مگر مسکرائے بارش میں

نشست ہو گی بہت خاص واسطے میرے

مری غزل وہ مجھے جب سنائے بارش میں

قسم سے لطف بھی دگنا ہی آتا موسم کا

تمہارے ہاتھ کی ملتی جو چائے بارش میں

نکل پڑے ہیں یہ بادل تلاش میں اس کی

جو ان سے عشق مکمل نبھائے بارش میں

وہ آگ ہے یہ کہا میں نے اس کی سکھیوں کو

کرو کچھ ایسا کہ وہ آ نہ پائے بارش میں

کہا یہ میں نے؛ کہو کب لکھوں غزل تم پر

کہا یہ اس نے کہ؛ ہے میری رائے بارش میں

حسین تُو بھی ہے تیرا بھی حسن نکھرے گا

بلال تُو بھی اگر بھیگ جائے بارش میں


بلال صابر

No comments:

Post a Comment