کسی پہ وقت یہ ہرگز نہ آئے بارش میں
کہ آنکھ تر ہو مگر مسکرائے بارش میں
نشست ہو گی بہت خاص واسطے میرے
مری غزل وہ مجھے جب سنائے بارش میں
قسم سے لطف بھی دگنا ہی آتا موسم کا
تمہارے ہاتھ کی ملتی جو چائے بارش میں
نکل پڑے ہیں یہ بادل تلاش میں اس کی
جو ان سے عشق مکمل نبھائے بارش میں
وہ آگ ہے یہ کہا میں نے اس کی سکھیوں کو
کرو کچھ ایسا کہ وہ آ نہ پائے بارش میں
کہا یہ میں نے؛ کہو کب لکھوں غزل تم پر
کہا یہ اس نے کہ؛ ہے میری رائے بارش میں
حسین تُو بھی ہے تیرا بھی حسن نکھرے گا
بلال تُو بھی اگر بھیگ جائے بارش میں
بلال صابر
No comments:
Post a Comment