Sunday, 20 June 2021

گر ہوں منصور تو سولی پہ چڑھا دے مجھ کو

 گر ہوں منصور تو سولی پہ چڑھا دے مجھ کو

اور ہوں سقراط تو لا، زہر پلا دے مجھ کو

وصل کا گل نہ سہی ہجر کا کانٹا ہی سہی

کچھ نہ کچھ تو مری وحشت کا صلہ دے مجھ کو

کب تلک اور جلوں آگ میں تنہائی کی

زندگی اب یہی بہتر ہے بجھا دے مجھ کو

تھرتھراتی ہوئی پلکوں پہ سجانے والے

اشک بے کار کی مانند گرا دے مجھ کو


مرغوب علی

No comments:

Post a Comment