Monday, 21 June 2021

بے وفا کے وعدہ پر اعتبار کرتے ہیں

 بے وفا کے وعدہ پر اعتبار کرتے ہیں

وہ نہ آئے گا پھر بھی انتظار کرتے ہیں

لوگ اب محبت میں کاروبار کرتے ہیں

دل بچا کے رکھتے ہیں جاں شکار کرتے ہیں

عشرتیں جہاں بھر کی بس انہیں کا حصہ ہے

جو روش زمانے کی اختیار کرتے ہیں

شخصیت میں جھانکیں تو اور ہی تماشہ ہے

باتیں جو نصیحت کی بے شمار کرتے ہیں

اپنے دم قدم سے تو دشت بھی گلستاں ہے

ہم جو خارزاروں کو لالہ زار کرتے ہیں

جان سے گزرتے ہیں بے خودی میں اہلِ دل

وہ جو چشمِ پُر فن کو ذوالفقار کرتے ہیں

ہوں شگوفے شاخوں کے یا لویں چراغوں کی

سب ہوا کے دامن پر انحصار کرتے ہیں

ہم کہاں کے دانا ہیں، کس ہنر میں یکتا ہیں

لوگ پھر بھی جانے کیوں ہم سے پیار کرتے ہیں

جس جگہ پہ خدشہ ہو پیر کے پھسلنے کا

ہم قدم وہیں اعجاز استوار کرتے ہیں


غنی اعجاز

No comments:

Post a Comment