Friday, 14 May 2021

کیا کیا سپرد خاک ہوئے نامور تمام

 کیا کیا سپرد خاک ہوئے نامور تمام

اک روز سب کو کرنا ہے اپنا سفر تمام

میری نظر نے لوٹ لیے جلوہ ہائے حسن

حسرت سے دیکھتے ہی رہے دیدہ ور تمام

تم نے تو اپنا کہہ کے مجھے لوٹ ہی لیا

ماتم کناں ہے میرے لیے گھر کا گھر تمام

مانا کہ میرے لب نہ ہلے رعب حسن سے

روداد دل تو کہہ ہی گئی چشم تر تمام

اب دیدنی ہے آپ کے بیمار غم کا حال

مایوس آ رہے ہیں نظر چارہ گر تمام

راہ وفا میں حد سے ہم آگے گزر گئے

دو گام چل کے بیٹھ گئے راہبر تمام

چھوڑے ہیں ہم نے نقش محبت ہر اک جگہ

واقف ہمارے حال سے ہیں بام و در تمام


وصفی بہرائچی

No comments:

Post a Comment