Friday, 14 May 2021

پھر اک نئے سفر پہ چلا ہوں مکان سے

 پھر اک نئے سفر پہ چلا ہوں مکان سے

کوئی پکارتا ہے مجھے آسمان سے

آواز دے رہا ہے اکیلا خدا مجھے

میں اس کو سن رہا ہوں ہواؤں کے کان سے

کچھ دن تو بے گھری کا تماشہ بھی دیکھ لوں

یوں بھی ہے جی اچاٹ پرانے مکان سے

دونوں ہی ہمسفر تھے ہواؤں کے دوش پر

پر میں ہوں چُور چُور سفر کی تکان سے

پیروں تلے دبی ہے وہی ریت کی چٹان

مجھ کو ہوا نے پھینک دیا آسمان سے

وہ زد پہ آ گیا تھا نہتا بھی تھا مگر

میں نے ہی کوئی تیر نہ چھوڑا کمان سے

میرے لبوں پہ کھیل رہی ہے وہی ہنسی

ہر چند ریت ریت ہوا ہوں چٹان سے


عبدالرحیم نشتر

No comments:

Post a Comment