Friday, 14 May 2021

کچھ طور نہیں بچنے کا زنہار ہمارا

 کچھ طور نہیں بچنے کا زنہار ہمارا

جی لے ہی کے جاوے گا یہ آزار ہمارا

کوچہ سے تِرے کوچ ہے اے یار ہمارا

جی لے ہی چلی حسرتِ دیدار ہمارا

تو ہم کو اٹھا لیجیئو اس وقت الٰہی

جس وقت اٹھے پہلو سے دلدار ہمارا

یارا ہے کہاں اتنا کہ اس یار کو یارو

میں یہ کہوں اے یار ہے تو یار ہمارا

ہم پادشہِ مملکتِ عشق ہیں ناحق

منصور سا مارا گیا سردار ہمارا

کہہ دیجیئو مکھولی کو اے گردشِ طالع

ہاں جلدی سے لا تخت ہوا دار ہمارا

ابرو کی تِری بیت کی کیا بات ولیکن

ہے آہ کا مصرعہ بھی دھواں دار ہمارا

احساں تو غزل فارسی ہی اپنی کہا کر

دل ریختہ تیرے سے ہے بیزار ہمارا


احسان دہلوی

No comments:

Post a Comment