کچھ طور نہیں بچنے کا زنہار ہمارا
جی لے ہی کے جاوے گا یہ آزار ہمارا
کوچہ سے تِرے کوچ ہے اے یار ہمارا
جی لے ہی چلی حسرتِ دیدار ہمارا
تو ہم کو اٹھا لیجیئو اس وقت الٰہی
جس وقت اٹھے پہلو سے دلدار ہمارا
یارا ہے کہاں اتنا کہ اس یار کو یارو
میں یہ کہوں اے یار ہے تو یار ہمارا
ہم پادشہِ مملکتِ عشق ہیں ناحق
منصور سا مارا گیا سردار ہمارا
کہہ دیجیئو مکھولی کو اے گردشِ طالع
ہاں جلدی سے لا تخت ہوا دار ہمارا
ابرو کی تِری بیت کی کیا بات ولیکن
ہے آہ کا مصرعہ بھی دھواں دار ہمارا
احساں تو غزل فارسی ہی اپنی کہا کر
دل ریختہ تیرے سے ہے بیزار ہمارا
احسان دہلوی
No comments:
Post a Comment