Saturday, 9 July 2022

دل ان کی محبت کا جو دیوانہ لگے ہے

 دل ان کی محبت کا جو دیوانہ لگے ہے

یہ ایسی حقیقت ہے جو افسانہ لگے ہے

عالم نہ کوئی پوچھے مِری وحشت دل کا

گھر اپنے اگر جاؤں تو ویرانہ لگے ہے

بڑھتے نہیں کیوں میرے قدم آگے کی جانب

نزدیک ہی شاید درِ جانانہ لگے ہے

ویسے تو کسی نے مجھے ایسا نہیں جانا

دیوانہ کہا تم نے تو دیوانہ لگے ہے

رودادِ الم ان سے جو قاصد نے بیاں کی

فرمانے لگے ہنس کے یہ افسانہ لگے ہے

میں نے تو بنائی تھی فقط آپ کی تصویر

دل میرا مگر آج صنم خانہ لگے ہے

اب اپنا بھی بے گانہ نظر آتا ہے وصفی

بے گانہ تو بے گانہ ہے بیگانہ لگے ہے


وصفی بہرائچی

No comments:

Post a Comment