Saturday, 9 July 2022

دیکھ کر ہر رخ روشن کو مچل جاتے ہیں

 دیکھ کر ہر رخ روشن کو مچل جاتے ہیں

کتنے نادان ہیں جگنو سے بہل جاتے ہیں

پھول سا جسم لیے شہرِ تمازت میں نہ جا

لوگ کہتے ہیں وہاں سنگ پگھل جاتے ہیں

دوستی کا بھی ہے موسم سے تعلق شاید

رُت بدلتی ہے تو کیوں لوگ بدل جاتے ہیں

جب تجھے سامنے رکھ کر میں غزل لکھتا ہوں

لفظ کاغذ پہ ستاروں میں بدل جاتے ہیں

شام آتی ہے تو ہم شہر کے بازاروں میں

اوڑھ کر چادرِ تنہائی نکل جاتے ہیں

وہ ہے پتھر مگر آئینے پہنتا ہے شہاب

بخت کیا بھیس بدلنے سے بدل جاتے ہیں


شہاب دہلوی

No comments:

Post a Comment