دیکھ کر ہر رخ روشن کو مچل جاتے ہیں
کتنے نادان ہیں جگنو سے بہل جاتے ہیں
پھول سا جسم لیے شہرِ تمازت میں نہ جا
لوگ کہتے ہیں وہاں سنگ پگھل جاتے ہیں
دوستی کا بھی ہے موسم سے تعلق شاید
رُت بدلتی ہے تو کیوں لوگ بدل جاتے ہیں
جب تجھے سامنے رکھ کر میں غزل لکھتا ہوں
لفظ کاغذ پہ ستاروں میں بدل جاتے ہیں
شام آتی ہے تو ہم شہر کے بازاروں میں
اوڑھ کر چادرِ تنہائی نکل جاتے ہیں
وہ ہے پتھر مگر آئینے پہنتا ہے شہاب
بخت کیا بھیس بدلنے سے بدل جاتے ہیں
شہاب دہلوی
No comments:
Post a Comment