Friday, 7 May 2021

غم سے گھبرا کے کبھی نالہ و فریاد نہ کر

 غم سے گھبرا کے کبھی نالہ و فریاد نہ کر

عزتِ نفس کسی حال میں برباد نہ کر

دل یہ کہتا ہے کہ دے اینٹ کا پتھر سے جواب

جو تجھے بھُولے اسے تو بھی کبھی یاد نہ کر

توڑ دے بندِ قفس کچھ بھی اگر ہمت ہے

اک رہائی کے لیے منتِ صیاد نہ کر

اپنے حالات کو بہتر جو بنانا ہے تجھے

عہدِ رفتہ کو کبھی بھُول کے بھی یاد نہ کر

حال کو دیکھ سمجھ وقت کی قیمت اے دوست

فکرِ فردا میں کبھی وقت کو برباد نہ کر

زندگی بنتی ہے کردار سے کردار بنا

مختصر زیست کے لمحات کو برباد نہ کر

کبھی بدلا ہے نہ بدلے گا محبت کا مزاج

اہلِ دل ہے تو کسی دل کو بھی ناشاد نہ کر

مدعی علم کا ہے جہلِ مرکب لا ریب

قولِ فیصل ہے فراموش یہ ارشاد نہ کر 


وصفی بہرائچی

No comments:

Post a Comment