Wednesday, 22 December 2021

زمیں ان کے لیے پھول کھلاتی ہے

 زمیں ان کے لیے پھول کھلاتی ہے


جب آگ جلی ناف کے نیچے تو زمیں پھیل گئی

آگ جلی اور بدن پھیل گئے

آنکھوں کی آوارگی بے رنگ ہوئی

دھوپ ہوا چاندنی

سب بستیوں میں خاک اڑی

قافلے ہی قافلے تھے

قافلے جو درد کے وطنوں سے چلے

چلتے گئے اجنبی خوشبو کی طرف

اس کی طرف جس کے لیے ساری کتابوں میں لکھا ہے

وہ کبھی ہاتھ نہیں آتی کبوتروں سے چٹاتی ہے

مگر رات کے دروازے پہ پہنچے تو ستارے نہ ملے

لوگ ابھی صبح کی امید میں شب کاٹتے ہیں

لوگ دکھی لوگ اکیلے ہیں

انہیں راستہ دو سینے سے چمٹا لو

ہر اک راستے میں جلتی ہوئی آگ بجھا دو کہ بدن

پھیلتے جاتے ہیں زمیں تنگ ہوئی جاتی ہے

جو آگ بجھانے کے لیے آئے تھے

سب خاک ہوئے لوٹ نہیں پائے

ہوا ان کے لیے دستکیں دیتی ہے

زمیں ان کے لیے پھول کھلاتی ہے


عباس اطہر

No comments:

Post a Comment