پیاسوں کی سرزمین پہ ستم بھی ہے قہر بھی
چھائے کبھی گھٹا تو برستا ہے زہر بھی
سینے میں چاند کے بھی نہیں روشنی کی لہر
تاریکیوں کی جھیل میں ڈوبا ہے شہر بھی
جھلسا رہا ہے پیڑ کا سایہ بھی جسم کو
لازم ہے اب تو سانس بھی لینا بااحتیاط
گھل مل گیا ہے تازہ ہواؤں میں زہر بھی
بادل کی اوٹ سے بھی تو برسے ہیں سنگ و خشت
بجلی کا روپ دھار کے ٹوٹا ہے قہر بھی
بے چینیوں کی گود میں رہتے ہیں صبح و شام
جھولے میں خلفشار کے پلتا ہے دہر بھی
بے نام سے کھنڈر میں سسکتی ہے اب حیات
مسمار کر چکا ہوں دعاؤں کا شہر بھی
زلفیؔ بایں تموج احساسِ معصیت
سینے میں موجزن ہے تقدس کی لہر بھی
سیف زلفی
No comments:
Post a Comment