Friday, 4 December 2015

پیاسوں کی سرزمین پہ ستم بھی ہے قہر بھی

پیاسوں کی سرزمین پہ ستم بھی ہے قہر بھی
چھائے کبھی گھٹا تو برستا ہے زہر بھی
سینے میں چاند کے بھی نہیں روشنی کی لہر
تاریکیوں کی جھیل میں ڈوبا ہے شہر بھی
جھلسا رہا ہے پیڑ کا سایہ بھی جسم کو
لپٹی ہوئی ہے ریت کی چادر میں نہر بھی
لازم ہے اب تو سانس بھی لینا بااحتیاط
گھل مل گیا ہے تازہ ہواؤں میں زہر بھی
بادل کی اوٹ سے بھی تو برسے ہیں سنگ و خشت
بجلی کا روپ دھار کے ٹوٹا ہے قہر بھی
بے چینیوں کی گود میں رہتے ہیں صبح و شام
جھولے میں خلفشار کے پلتا ہے دہر بھی
بے نام سے کھنڈر میں سسکتی ہے اب حیات
مسمار کر چکا ہوں دعاؤں کا شہر بھی
زلفیؔ بایں تموج احساسِ معصیت
سینے میں موجزن ہے تقدس کی لہر بھی

سیف زلفی

No comments:

Post a Comment