Tuesday, 5 January 2021

گرد اڑے یا کوئی آندھی ہی چلے

 گرد اڑے یا کوئی آندھی ہی چلے

یہ امس تو کسی عنوان ٹلے

انگ پر زخم لیے خاک ملے

آن بیٹھے ہیں ترے محل تلے

اپنا گھر شہر خموشاں سا ہے

کون آئے گا یہاں شام ڈھلے

دلِ پروانہ پہ کیا گزرے گی

جب تلک دھوپ بجھے شمع جلے

روپ کی جوت ہے کالا جادو

اک چھلاوا کہ فرشتوں کو چھَلے

دلدلوں میں بھی کنول کھلتے ہیں

نخلِ امید بہر طور بھلے

اپنے ہی رین بسیروں کی طرف

لوٹ آئے ہیں سبھی شام ڈھلے

مے کدے میں تو نشہ بٹتا ہے

کون یاں جانچے برے اور بھلے

روشنی دیکھ کے چندھیا جائیں

جو اندھیروں میں بڑھے اور پلے

خار تو سیف بنے گا گل کی

یہ بھلے ہی کسی گلچیں کو کھلے

رات باقی ہے ابھی تو پرویز

بادہ سرجوش رہے دور چلے


افضل پرویز

No comments:

Post a Comment